کِسی مُلک میں کام کرنے کے لیے جانا آپ کی ضرورت ہو سکتی ہے ، عین ممکن ہے کہ آپ کے وہاں جانے سے اُس مُلک کو بھی فائدہ ہو تو یہ تعاون یا فائدہ تو یہاں تک ہو گیا باہمی ۔ اِس سے آگے مستقل قیام یا اُس مُلک کی شہریت کِسی باہر سے آنے والے کے لیے ایک اضافی سہولت یا پرولیج ہے یہ کوئی پیدائشی حق / برتھ رائیٹ نہیں ہے ۔ جو ممالک یہ سہولیات دیتے ہیں اُن کے پاس اپنی وجوہات ہیں اور جو نہیں دیتے جیسے کہ تمام خلیجی ممالک ؛ تو اُن کے پاس اپنی وجوہات ہیں ۔
پاکستان میں برسوں نہیں عشروں قیام کے بعد بھی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل جاری ہے ۔ غلط یا صحیح کی بحث اپنی جگہ لیکن ہر مُلک اپنی عوام کے لیے اپنے طور پر بہتر فیصلے کرنے کا مجاز ہے ۔ ہم اُن پر تنقید کر سکتے ہیں یا تائید بھی لیکن ہمیں سوال یہ کرنا ہوگا کہ ایسا کیا ہُوا کہ شبانہ محمود موجودہ ہوم سیکرٹری برطانیہ نے دو دِن قبل کُچھ سخت اقدامات کا عندیہ دے دِیا ہے ۔
پہلے جانتے ہیں کہ یہ سخت اقدامات کیا ہیں ۔
یہاں یعنی برطانیہ میں عموماً پانچ سال قیام کے بعد آپ آئی ایل آر یعنی اِنڈیفینیٹ لِیو ٹُو ریمین / پی آر کے اہل ہو جاتے تھے جِس میں سے آپ کے سٹوڈینٹ اور پی ایس ڈبلیو کا وقت منہا کر کے باقی پانچ سال آپ کو کِسی ایسے ویزے پر گُزارنے ہوتے تھے جو سیٹلمینٹ روٹ کا ہوتا ہو ۔
اب بالکل سٹریٹ اووے یہ مُدت پانچ سال سے بڑھا کر دَس سال کر دِی گئی ہے جِس میں سوا ایک لاکھ پاؤنڈز سالانہ سے زائد تنخواہ والے سات سال مائینس کے حقدار ہیں یعنی وُہ تین سال میں آئی ایل آر کر سکیں گے ، پچاس ہزار اِنکم بریکٹ والے پانچ سال کی رعایت کے حقدار ہیں یعنی وُہ دَس کے بجائے پانچ سال بعد آئی ایل آر اپلائی کر سکیں گے جبکہ اِس کے نیچے تمام پر دَس سال کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ پندرہ یا بِیس سال کی مدت بھی لاگو ہو سکتی ہے ۔
یہ یاد رہے کہ یہاں پچاس ہزار سے سوا لاکھ پاؤنڈز کی انکم پر چالیس سے پینتالیس فیصد ٹیکس ہے جبکہ تمام کٹوتی ڈال کر پینتالیس سے پچاس فیصد انکم آپ کی واپس حکومت کے ٹیکس میں واپس چلی جاتی ہے ۔
جو لوگ یہاں غیر قانونی طریقے سے داخل ہُوئے ہیں وُہ بِیس سال کی مدت کے بعد کاغذات کے حقدار ہوں گے اور پھر مزید دَس سال یعنی کُل تیس برس بعد سیٹلمینٹ کے اہل ہوں گے ۔ یہ قانون پہلے ہی دوہزار گیارہ بارہ سے لاگو ہے ۔
جو لوگ وزٹ ویزے پر آئے اور پھر اُنھوں نے کوئی شادی کی ، کوئی بچوں کی وجہ سے رُکا یا کوئی اور راستہ اختیار کِیا وُہ بھی اب بِیس سال کی مدت کے بعد اپلائی کر سکے گا سیٹلمینٹ کے لیے ۔
جو چھ ماہ یا زائد غیر قانونی رہا یعنی آیا تو لیگل طریقے سے لیکن بعد میں کِسی وجہ سے غیر قانونی اوور سٹیئر ہو گیا تو وُہ بھی اب بِیس سال کے عرصے کے بعد آئی ایل آر کے لیے اپلائی کر سکے گا جبکہ پہلے وُہ دَس سال کے رُوٹ پر جاتا تھا ۔
اِس کے ساتھ ساتھ زبان کی اہلیت کا معیار بی وَن سے بی ٹُو ، جبکہ نو کریمنل ریکارڈ ، لائیف اِن یُوکے ٹیسٹ وغیرہ پہلے سے ہی لاگو ہیں ۔
جو لوگ برٹش سپاؤس یا فیملی لائیف ویزوں پر ہیں اُن کے لیے کوئی تبدیلی لاگو نہیں ہوگی ۔ گلوبل ٹیلینٹ سمیت چند دیگر عناصر کے لیے بھی سہولت دستیاب رہے گی جبکہ اسائیلم سیکرز / ریفیوجیز کے لیے بھی بِیس سال کا عرصہ لاگو کر دِیا گیا ہے ۔
یہ تو ہوگیا موٹا موٹا تعارف اِن تبدیلیوں کا ۔ یہ تمام تبدیلیاں پہلے تو ایسے ہوتا تھا کہ “ فلاں وقت سے لاگو ہوں گی “ لیکن یہ دوہزار اِکیس یا اِس کے بعد آنے والے تمام افراد پر لاگو ہوں گی ۔ اِس میں کئیر ورک کے ویزوں سمیت دیگر ورک پرمٹس پر آنے والے لوگ شامل ہیں اور مزید سختیاں بھی متوقع ہیں لیکن سوال یہ ہے ایسا کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی ؟
برطانیہ میں پچھلے کئی برسوں بلکہ عشروں سے مقامی آبادی باہر سے آنے والے تارکینِ وطن کی آمد پر تحفظات رکھتی آئی ہے لیکن حالیہ پانچ سات برسوں میں لاکھوں کی تعداد میں قانونی و غیر قانونی افراد کی آمد نے برطانیہ کی چولیں ہِلا کر رکھ دِی ہیں جِس کو یہ لوگ “ بورس ویوو “ کا نام دے رہے ہیں ۔ نائیجل فیراج جو ریفارم پارٹی کے ہیڈ ہیں وُہ ہر ایک سروے اور پول میں آگے دِکھائی دے رہے تھے ، دائیں بازو کی سیاست اور لوگ اِس معاشرے میں دراڑ کو بڑھائے جا رہے تھے ۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ تارکینِ وطن کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ قصور ہوتا ہے ۔ جب ایک بڑی تعداد کِسی مُلک یا شہر یا علاقوں میں پاکٹس بنا کر رہنے لگے ، جب مقامی آبادی کو وہاں سے منتقل ہونا پڑے ، جب مقامی ثقافت اور لباس تک زد میں آئے تو مسائل جنم لیتے ہیں ۔ اِس میں کِسی ایک مذہب یا کِسی ایک مُلک کے لوگوں کو قصور وار ٹھہرانا گو بڑی زیادتی ہوگی لیکن یہ بھی سامنے کی بات ہے کہ آپ کے پیاروں کا ہاتھ ، افغان تارکینِ وطن ، نائیجرین ، صومالین ، اِنڈین سمیت کئی ممالک نے اِن تبدیلیوں کے لیے “ بڑی سخت “ محنت کی ہے کہ “ کرو ، تبدیلیاں لاؤ ، ہم اِسی لائق ہیں ۔ “
آپ شبانہ محمود پر جتنی مرضی تنقید کر لیں لیکن بطور ہوم سیکرٹری یہاں کوئی بھی اور ہوتا / ہوتی تو یہ سب وقت کی پکار ہے ۔
یا تو اِن تبدیلیوں کو قبول کریں ، یا “ موووڈ ٹُو لندن ، انگلینڈ “ کا سٹیٹس تبدیل کر کے کوئی اور مُلک ڈُھونڈ لیں لیکن ہر مُلک جیسے کہ کینیڈا کے اپنے مسائل ہیں ، یورپی ممالک بھی دائیں بازو کی سیاست کی طرف بڑھ رہے ہیں ، امریکہ کی سختیاں جبکہ آسٹریلیا نے بھی ہاتھ کھینچ کر رکھا ہُوا ہے تو یا تو اپنی انکم لیول بہتر کریں ، ہائیر بریکٹس میں جائیں یا پھر دَس سال کا کڑوا گھونٹ بھریں ۔۔۔۔۔
ویلکم ٹُو نیو یُوکے ۔ یہ وُہ حالات ہیں جو میرے جیسے لوگ آپ کو برسوں سے بتاتے آ رہے تھے کہ یہاں مسائل ہیں لیکن سمجھے کون

رجب علی ارشد مغل
Join The Discussion