جرمنی کا اپرچونٹی کارڈ (Opportunity Card یا Chancenkarte) جون 2024 میں متعارف کرایا گیا ایک نیا ویزا سسٹم ہے، جو غیر یورپی ممالک (جیسے پاکستان) کے ہنرمند افراد کو بغیر کسی جاب آفر کے جرمنی آنے اور نوکری تلاش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
پاکستان سے اس کارڈ کو حاصل کرنے کا طریقہ، اس کے فوائد اور نقصانات کی تفصیل درج ذیل ہے
اہلیت کا معیار (Eligibility Criteria)
اپرچونٹی کارڈ حاصل کرنے کے لیے آپ کو دو میں سے ایک شرط پوری کرنی ہوگی
مکمل تسلیم شدہ ڈگری
آپ کے پاس ایسی ڈگری ہو جو جرمنی میں مکمل طور پر تسلیم شدہ ہو (یہ مشکل آپشن ہے کیونکہ اس کے لیے ‘انابین ‘ سے ڈگری کی تصدیق ضروری ہے)۔
پوائنٹس سسٹم (آسان راستہ)
اگر آپ کی ڈگری جرمنی میں مکمل تسلیم شدہ نہیں بھی ہے، تب بھی آپ اپلائی کر سکتے ہیں اگر آپ کے پاس کم از کم چھ پوائنٹس ہوں اور درج ذیل بنیادی شرائط پوری ہوں
آپ کے پاس پاکستان کی ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی ) سے تصدیق شدہ ڈگری یا دو سالہ ووکیشنل ٹریننگ ہو
آپ کو جرمن زبان (اے ون لیول) یا انگریزی زبان (بی ٹو لیول) آتی ہو۔
پوائنٹس کی تقسیم (کل سکس پوائنٹس درکار ہیں)
تجربہ: پچھلے پانچ یا سات سالوں میں فیلڈ کا تجربہ۔
عمر: پینتیس سال سے کم عمر ہونے پر زیادہ پوائنٹس (چالیس سال تک بھی پوائنٹس ملتے ہیں)۔
زبان: جرمن (اے ٹو یا سی ون ) اور انگریزی (سی ون ) پر اضافی پوائنٹس۔
جرمنی سے تعلق: اگر آپ پہلے جرمنی میں رہ چکے ہیں یا وہاں سے ڈگری کی ہے۔
پاکستان سے اپلائی کرنے کا طریقہ
پاکستان سے اپلائی کرنے کے لیے آپ کو مندرجہ ذیل مراحل طے کرنے ہوں گے
دستاویزات کی تیاری: اپنی ڈگریوں کی اچ ای سی اور وزارت خارجہ موفا سے تصدیق کروائیں۔ زبان کا ٹیسٹ گویتھ , ایلٹس پاس کریں۔
پوائنٹس کا حساب: خود دیکھیں کہ کیا آپ کے سکس پوائنٹس پورے ہو رہے ہیں۔
بلاکڈ اکاؤنٹ : آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ جرمنی میں اپنا خرچہ اٹھا سکتے ہیں۔ فی الحال آپ کو تقریباً ایک ہزار ستائیس یورو ماہانہ (ایک سال کے لیے تقریباً برا ہزار تین سو چوبیس یورو) ایک جرمن بینک اکاؤنٹ میں بلاک کروانے ہوں گے۔ (پاکستانی روپوں میں یہ رقم پنتیس سے چالیس لاکھ روپے بن سکتی ہے)۔
اپوائنٹمنٹ: جرمن سفارت خانے (اسلام آباد) یا قونصلیٹ (کراچی) کی ویب سائٹ سے اپرچونٹی کارڈ کی اپوائنٹمنٹ بک کریں
انٹرویو اور ویزا: مقررہ تاریخ پر تمام کاغذات اور ویزا فیس (پچہتر یورو) کے ساتھ پیش ہوں اور انٹرویو دیں۔
اپرچونٹی کارڈ کے فوائد
جاب آفر کی ضرورت نہیں: سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو پاکستان میں بیٹھ کر جرمنی کی نوکری ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، آپ وہاں جا کر انٹرویو دے سکتے ہیں
پارٹ ٹائم کام کی اجازت: نوکری تلاش کرنے کے دوران آپ ہفتے میں بیس گھنٹے تک کام (اولڈ جاب ) کر سکتے ہیں تاکہ اپنا خرچہ نکال سکیں
آزمائشی کام (ٹرائل ورک ): آپ کسی کمپنی میں دو ہفتے تک آزمائشی کام کر سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کی مہارت دیکھ سکیں
رہائش کا راستہ: اچھی نوکری ملنے پر یہ ویزا ورک پرمٹ اور بعد میں پی آر میں تبدیل ہو سکتا ہے
نقصانات اور چیلنجز
مہنگائی اور کرنسی کا فرق: پاکستان سے جانے والوں کے لیے “بلاکڈ اکاؤنٹ” کی رقم بہت زیادہ ہے۔ یورو کا ریٹ بڑھنے کی وجہ سے چالیس لاکھ روپے جمع کرنا اور انہیں بلاک کرنا ایک بڑا مالی رسک ہے
رہائش کا بحران: جرمنی کے بڑے شہروں (برلن، میونخ وغیرہ) میں سستی رہائش ملنا بہت مشکل ہے۔ آپ کی بلاکڈ رقم کا بڑا حصہ کرائے میں جا سکتا ہے۔
زبان کی رکاوٹ: اگرچہ کارڈ انگریزی کی بنیاد پر مل سکتا ہے، لیکن جرمنی میں اچھی نوکری حاصل کرنے کے لیے جرمن زبان آنا بہت ضروری ہے۔ صرف انگریزی پر انحصار کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ویزا اپوائنٹمنٹ میں تاخیر: پاکستان میں جرمن ایمبیسی میں اپوائنٹمنٹ ملنا بہت دشوار ہے، جس کی وجہ سے پروسیس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔
کوئی گارنٹی نہیں: یہ کارڈ صرف نوکری تلاش کرنے کا موقع ہے، نوکری ملنے کی گارنٹی نہیں۔ اگر ایک سال میں نوکری نہ ملی تو واپس آنا پڑ سکتا ہے۔
خلاصہ
اگر آپ کے پاس ہنر ہے، کچھ تجربہ ہے، اور آپ مالی طور پر پینتیس سے چالیس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، تو یہ یورپ میں داخل ہونے کا بہترین قانونی راستہ ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس جرمن زبان کی مہارت نہیں ہے، تو وہاں جا کر سروائیو کرنا مشکل ہو سکتا ہے
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی تعلیم اور تجربے کی بنیاد پر آپ کے متوقع پوائنٹس کا حساب لگانے میں مدد کروں؟
Join The Discussion